اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی عدالت نے 87 سالہ شیخ عکرمہ صبری کے خلاف مقدمے کی سماعت کی۔ ان کے وکیل مدحت دیبہ کے مطابق شیخ صبری پر ’’دہشت گردی پر اکسانے‘‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے اپنے خلاف تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
وکیل کے مطابق عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت 23 نومبر کو مقرر کی ہے۔ یہ مقدمہ 2024 کے وسط سے اسرائیلی استغاثہ میں زیرِ کارروائی ہے۔
شیخ عکرمہ صبری کے خلاف مقدمے میں 2022 میں عدی التمیمی اور رائد خازم کے لیے تعزیتی کلمات اور اگست 2024 میں حماس کے سابق سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت کے بعد مسجد الاقصیٰ میں دی جانے والی خطبے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
شیخ صبری کی دفاعی ٹیم نے اسرائیلی عدالت کی کارروائی کو ’’من مانا اور ظالمانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف دباؤ اسرائیلی حکومت اور انتہا پسند گروہوں کے سیاسی مؤقف سے متاثر ہے۔
القدس کی اعلیٰ اسلامی کونسل نے بھی شیخ عکرمہ صبری کے خلاف عدالتی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے باطل قرار دیا ہے۔
کونسل نے کہا کہ وہ شیخ صبری کے خلاف اس کارروائی کو تسلیم نہیں کرتی اور اسے مسلمان علما، اسلامی مقدسات اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد پر حملہ سمجھتی ہے۔
اسرائیلی حکام گزشتہ ماہ کے دوران شیخ عکرمہ صبری پر متعدد پابندیاں عائد کر چکے ہیں، جن میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے پر پابندی، سفری پابندی، بار بار تفتیش کے لیے طلبی اور ان کے گھر پر چھاپہ شامل ہے۔
القدس کی اعلیٰ اسلامی کونسل نے واضح کیا ہے کہ شیخ صبری کے خلاف دباؤ اور عدالتی کارروائیاں انہیں مسجد الاقصیٰ کے دفاع اور اپنے دینی مؤقف کے اظہار سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔
آپ کا تبصرہ